خالی کمرے میں سورہ فاتحہ کا یہ عمل کر لیں رزق کی بارش نہ ہو تو پھر کہنا

سورۃ فاتحہ ہر مرض کے لئے بطور دم کے استعمال کی جاسکتی ہے اور یقینا اس سے شفاحاصل ہوتی ہے مگر

اعتقاد راسخ شرط اول ہے کہ بغیر اعتقاد صحیح وایمان باللہ کے کچھ بھی حاصل نہیں نیز اس سورۃ شریفہ میں اللہ ہی کی عبادت بندگی کرنے اور ہر قسم کی مدد اللہ ہی سے چاہنے کے بارے میں جو تعلیم دی گئی ہے اس پر بھی عمل وعقیدہ ضروری ہے۔ جو لوگ اللہ پاک کے ساتھ عبادت میں پیروں ، فقیروں، زندہ مردہ بزرگوں ، نبیوں ، رسولوں یا دیوی دیوتاؤں کو بھی شریک کرتے ہیں

وہ سب اس سورہ شریفہ کی روشنی میں حقیقی طور پر اللہ وحدہ ، لاشریک لہ، کے ماننے والے اس پر ایمان وعقیدہ رکھنے والے نہیں قرار دئیے جاسکتے ۔ سچے ایمان والوں کا سچے دل سے اللہ کے سامنے یہ عہد ہونا چاہئے۔ ایاک نعبد وایاک نستعین یعنی اے اللہ ! ہم خاص تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ کوئی بڑی حاجت ہو

تو اس کو پورا کرنے کا کوئی مجرب طریقہ کسی اللہ والے بزرگ کا وظیفہ ہےنماز باجماعت کے اہتمام کے ساتھ ساتھ فجر کی نماز کے بعد سورہ یسین اور مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت صلاۃ الحاجات اور مسنون دعائے حاجات کا اہتمام کریں، سارے مسائل اللہ جل شانہ حل فرما دیں گے۔ دعائے حاجات مسنون دعاوں کی کتاب میں مل جائیگی۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اعمال قرآنی میں حاجت روائی کے لیئے ایک عمل لکھا ہے جو کہ درج ذیل ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.