”حضرت علی ؓ نے فرمایا:تین لوگوں سے انصاف کی توقع فضول ہے؟“

حضرت عبدالرحمن بن لیلیٰ ؓ فرماتے ہیں :کہ حضرت علی ؓ شدید گرمی کے موسم میں ہمارے پاس تشریف لائے ۔آپ ؓ نے سردیوں کا لباس زیب تن کررکھا تھا،ہم نے آپ ؓ سے دریافت کیا، کہ اتنی شدید گرمی میں آپ ؓ نے سردیوں کا لباس زیب تن فرما رکھا ہے؟حضرت علی ؓ نے فرمایا: کہ خیبر کے موقع پر جب میری آنکھیں دکھتی تھیں ،تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنا لعابِ دہن میری آنکھوں کو لگایا،اور دعا فرمائی کہ اے اللہ تعالیٰ : علی ؓ سے گرمی اور سردی کو دور فرما! چنانچہ اس دن کے بعد مجھے گرمی اور سردی کی تکلیف نہ رہی۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے وہ عذاب سے محفوظ رہتا ہے، اپنے نفس سے حیاء کرنا ایمان کا ثمرہ ہے۔ایمان حسن یقین اور شرافت احسان کا بدلہ ہے ۔ مکر اور دل میں کھوٹ رکھنا ایمان کے دشمن ہیں۔ جب تک مومن خوش حالی کو فتنہ اور بلا کو نعمت خیال نہ کرے گا تب تک اس کا ایمان کامل نہ ہوگا۔

تین لوگوں سے انصاف کی توقع فضول ہے؟ احمق سے بدکار سے،بخیل سے۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کی تخلیق کا صرف ایک ہی مقصد قرآن مجید میں بیان کیا ہے اور واضح انداز میں فرمایا ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو سوائے اپنی عبادت کے اور کسی مقصد کے لئے پیدا نہیں کیا۔ جن یہ کام کس حد تک انجام دے رہے ہیں یہ انسانوں کے سوچنے اور غور کرنے کا مقام نہیں۔ البتہ انسان اپنے بارے میں سوچے کہ میرے خالق نے مجھے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے اس کی عبادت نہ کرنا، عدل کے منافی رویہ ہے۔ چنانچہ عبادت کو بھی جو ہمہ گیریت حاصل ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے اس کو نہ سمجھنا عبادت سے عدل نہیں۔ اس کو اس کے مروجہ معنوں تک محدود کر دینا یعنی اسے نماز، روزہ یا ارکان اسلام کی پابندی کا نام دے کرخود کو عبادت گزار سمجھنا شروع کردینا، عدل نہیں کیونکہ اس عبادت کو حقوق کے حوالے سے تقسیم کردیا گیا ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد اور پھر بندوں کے ساتھ حقوق کی آگے مفصل تفہیم ہے۔

ان حقوق کی اللہ کے حکم کے مطابق ادائیگی عبادت ہے۔ اپنے ساتھ عدل کی دوسری شکل اپنے جسم اور روح کے ساتھ عدل ہے جس کے تقاضے پورے کرنے کیلئے خوراک سے لیکر رہائش تک سبھی کے بارے میں ایک عادلانہ راہ ہے اور ایک غیر عادلانہ۔ اگر خوراک میں حلال، حرام کا امتیاز روا رکھا جائے تو یہ عدل ہوگیا، اسے نظر انداز کردیا جائے تو یہ عدل سے انکار ہوگیا۔خاندان کا نظام تباہ ہورہا ہے، احساس ذمہ داری ختم ہو چکا ہے، محبتیں دم توڑ رہی ہیں، منافقت اور جھوٹ کو فروغ حاصل ہے۔ ایسے میں عدل ایک ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔ خاندان کے علاوہ معاشرہ اور ملک میں بھی عدل ضروری ہے۔ سیاسی عدل، عدالتی عدالت، معاشرتی عدل، معاشی عدل، مذہبی عدل، صحافتی عدل اور انتظامی یا حکومتی عدل، آج اگر غور کریں تو سیاستدان جو کہتے ہیں، وہ کرتے نہیں اور حد تو یہ ہے کہ جب کہتے ہیں تبھی وہ اسے نہ کرنے کا دل میں فیصلہ کرلیتے ہیں۔

سیاسی بیان بازی اور شعبدہ بازی کے سوتے اس سیاسی عدل کو نظر انداز کرنے سے پھوٹتے ہیں، سیاسی عدل یہ ہے کہ سیاست میں آنے والا خدمت کے جذبہ سے آئے، اقتدار کا حصول اس کا مقصد نہ ہو وہ سیاسی منشور سوچ سمجھ کر تیار کرے۔ اس حقیقت کو بنیاد بنائے جو وطن کیلئے مفید ہو۔ عدالتی عدل جسے ہم عدل کی واحد صورت سمجھ بیٹھے ہیں اس کا اہتمام تواتنا ضروری ہے کہ جہاں ہر شے تباہ ہوجائے اگر عدالتیں عدل مہیا کرنے میں صرف حق اور سچ کو پہچانیں تو وہ قوم مکمل تباہی سے بچ جاتی ہے۔ اس عدل کی فراہمی میں ہمارا حال مثالی نہیں، ہمارا نظام عدل جن بھیانک معاشرتی اور قانونی رویوں سے تباہ ہوا ہے ان رویوں کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.