دکھ ہو یا تکلیف ؟

اچھی باتوں کو اپنی سوچ کا نہیں بلکہ اپنے عملوں کاحصہ بنائیے۔ زندگی کامقصد جانے

بغیر زندگی گزارنا یقیناً زندگی کو ضائع کرنے کےمترادف ہے۔ اگرآپ صیحح ہیں تو کچھ بھی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں بس صیحح بنے رہیں وقت خود گواہی دے گا۔ ٹھکرا دیا جنہوں نے میرا وقت دیکھ کر ان پر ایسا لاؤں گا کہ ملنا پڑے گا مجھ سے وقت لے کر۔ صبر رکھو ہرکام آسان ہونے سے پہلے مشکل ہوتا ہے۔ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ عطا کی جاتی ہے۔ لہٰذا کوشش کریں نہ کہ اپنے آپ کو پریشان۔ قرآن کہتا ہے اپنے دشمنوں کی چالوں سےپریشان نہ ہوا کر بے شک تمہارا رب سب سے بہترین چال چلنے والا ہے۔ خامو ش ہو کر محنت کرتے رہو کیونکہ قدرت کبھی بھی تمہاری محنت کا ایک ذرا بھی ضائع نہیں کرے گی۔ صبر ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔

لیکن اس کاپھل بہت میٹھا۔ تھوڑی سی تھکاوٹ کے لیے نماز نہ چھوڑو، اے مومن ! ان سے سیکھو جنہوں نےجسم پر خن جر ہوتے ہوئے بھی آخری سجدہ نہیں چھوڑا۔ رشتے اور موسم دونوں ایک جیسے ہوتے ہیں کبھی حد سے زیادہ اچھے اور کبھی برداشت سے باہر فرق بس اتنا ہے ، کہ موسم جسم کو تکلیف دیتے ہیں اور رشتے روح کو۔ خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی خوشیاں چھین لیتے ہیں ، اس شخص کو کوئی نہیں بدل سکتا جسے اپنے اندر کوئی غلطی نظر ہی نہ آتی ہو۔ اگر کوئی شخص آپ کو عزت دیتا ہے ۔ تو ا س کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت عظیم انسان ہیں بلکہ یہ کہ وہ شخص خود ایک اعلی ٰ ظرف انسان ہے۔

اپنی زندگی کے بدترین دور سے گزرتے وقت ایک اچھی بات جو ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ آخر کار ان لوگوں کے اصلی چہروں کو پہچان لیتے ہیں ۔ جن کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ آپ کی پرواہ کرتے ہیں۔ جب رشتے نبھانا مشکل ہوجائے تو ان کو نبھانا نہیں چاہیے بلکہ اللہ کے حوالے کردینا چاہیے۔ خوبصورت زندگی خود بخود نہیں بن جاتی بلکہ اس کی تعمیر روزانہ کی دعاؤں پرہوتی ہے۔ دعاکیجے ۔دعا کیجیے ،دعاکیجئے ۔ میری دل کی گہرائی سے دعا ہے کہ رب کریم آپ کی خوبصورت زند گی کو دین و دنیا کی تمام خوشیوں سے مالا مال کردے !آمین۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.