رزق کی فراوانی کے لئے آپﷺکابتایا ہوا آزمودہ عمل

ایک نوجوان نے حضور اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اپنی تنگ دستی

کا ماجر ا سنایا اور اس سے نکلنے کے لئے دعاء کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم شادی کرلو، تمہاری تنگ دستی دور ہوجائے گی۔ انہوں نے کسی طرح سے شادی کر لی۔ مگر حالات جوں کے توں رہے۔ پہلے ایک بندہ فاقوں کا شکار تھا، اب دو ہوگئے۔

انہوں نے خدمت عالیہ میں حاضر ہو کر پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اب تو ایک بجائے دو دو بندے فاقے کا شکار ہوگئے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرما یا اور شادی کرلو! انہوں نے تگ ودو کرکے دوسری شادی کر لی۔ مگر حالات ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ایک میاں اور دو بیویا ں فاقوں پہ فاقے کا شکا ر ہیں۔ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر پھر صورت احوال عرض کی۔آپﷺ نے پھر ارشاد فرمایا ، تم شادی کرلو۔ قربان جائیں صحابہ کرام ؓ کی عقیدت و محبت کے کہ انہوں نے یہ نہیں عرض کیا کہ یا رسول ﷺ ! یہ حل تو پہلے دو بار آزما چکا ہوں اور ہر بار مزید پریشانی کامنہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے ۔ چپ چاپ اٹھے اور پھر آپﷺ کے بتلائے ہوئے حل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔نصیب دیکھیں کہ

اس فاقہ مست صحابی ؓکو تیسر ا رشتہ بھی مل گیا۔ تیسری بیوی کے گھر آنے کی دیر تھی ، حالات دن بہ دن پلٹنا شروع ہوگئے۔ گھرمیں ریل پیل ہوگئی۔ خوشحالی ان کے خاندان پر نچھاور ہونےلگی۔جب صحابی اپنے مسئلہ میں رہنمائی لینے حاضر ہوئے تو آپﷺ نے ان کا جو علاج تجویز فرمایا وہ وحی ربانی تھا (اِن ھُوَ اِ لاَّ وَ حْی یُّوْ حٰی) آپ ﷺ کو بذریعہ وحی یہ بتلا دیا گیاکہ ان کی تنگ دستی ان کی بیوی کے طفیل دور ہوگی۔ آپ ﷺ نے انہیں شادی کا مشورہ دے دیا۔ یہ اتفاق تھا کہ جس بیوی کے صدقے رزق میں فراونی آنا تھی، پہلی شادی اس کے ساتھ نہ ہوئی ۔یہ تو اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ کس خوش نصیب خاتون کو بیوی بنا کر یہ گھر لائیں گے تو ان کے دن پھریں گے۔ چنانچہ پہلا تجربہ بظاہر تو ناکام ہوا۔ مگر

صحابی ؓ رسول کے دل میں آپﷺ کے بتلائے ہوئے حل کا اعتقاد کم ہوا نہ آپ ﷺ سے عقیدت میں کمی آئی۔ دوبارہ حاضر خدمت ہو کر صوت حال عرض کی ۔آپﷺ نے چونکہ وحی کے ذریعے حل تجویز فرمایا تھا کہ ان کی مصیبت کا مداوا شادی میں ہے، اس لئے دوبارہ ہی حل تجویز فرمایا۔ پھر ظاہری طور پر ناکامی ہوئی وہ صحابی پھر حاضر ہوئے ، آپﷺ نے پھر وہی ایک حل تجویز فرمایا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.