رسول پاکؐ نے فرما یا: سجدے میں آنکھیں بند کرنا؟

دینِ اسلا م کا دوسرا ستون نماز ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ ایما ن کے بعد نماز قائم کرنے کا ذکر ہے۔ نماز بندے کو اپنے رب کے پاس اتنا قریب کر دیتی ہے اس کے علاوہ دوسرا کوئی عمل نہیں ہے۔ نما ز قائم کرنے کی بدولت ہی مسلمان اللہ کی یاد ، اس کا قرب ، اس کی حضوری اور ہم کلامی جیسی نعمتوں سے فیضیاب ہوتا ہے۔ ایمان کی جڑوں کو مضبوطی صرف اللہ کے ذکر سے ہے۔

جس درخت کو نمی یا پانی نہ ملے تو وہ سوکھنے لگتا ہے۔ اس لیے وہ پھلنا پھولنا بند کر دیتا ہے۔ اس لیے جس کا دل ایمان سے غافل ہو اس کا دل مر جھا جاتا ہے۔ نیک اور صالح شخص صرف وہی ہو سکتا ہے جس کے ایمان کی تازگی موجو د ہواور ایمان اسی کا تازہ ہو سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کی یا د بسی ہوئی ہو۔ نماز کی بہت اہمیت ہے۔

مومن اور کافر میں فرق صر ف نماز کا ہے۔ یعنی جو نماز پڑھتا ہے وہ مسلمان ہے جو نہیں پڑھتا وہ کافر ہے۔ کیا نماز میں آنکھیں بند کر نی چا ہیے؟آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے میں فقہاء اسلام کی کیا رائے ہے؟اس کے لیے ضروری ہے کہ رسول کریم ﷺ کی نماز کیسی تھی؟ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ نماز ویسے ہی ادا کرو جیسے تم نے مجھے ادا کرتے دیکھا ہے۔

رسول کریمؐ اعلانِ نبوت سے پہلے بھی غارِ حرا میں کافی عرصہ عبادتِ الہیٰ میں مصروف رہے۔ جب آپؐ کو اعلانِ نبو ت ملی تو سب سے پہلے نماز کا حکم ملا۔ آپؐ کے نماز مثالی اور کامل تھی ۔ آپؐ کی نفلی نماز بھی خشیعت الہٰی سے اشکبار تھی۔ نماز میں اتنی محویت ہوتی کہ کائنات کی ہر چیز سے بےخبر اور ربِ کریم کے بالکل قریب ہو جاتے۔ جب پانچ نمازیں فرض ہوگیئں تو آپؐ نے آخر ی دم تک اس فریضہ کو سرانجا م دیا۔

آپؐ کی نما ز میں اتنی خشوع و خضو ع ہو تی کہ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ حضرت عوف رضی اللہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں آپؐ کے سا تھ تھا۔ آپ ؐ نے مسواک کیا وضو کیا اور نما ز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں بھی نماز میں شامل ہوگیا۔ آپؐ نے ایک رکعت میں پوری سورۃ بقرہ پڑھ ڈالی جہاں رحمت کی دعا آتی وہاں ٹھہر جاتے اور رحمت کی دعا مانگتے سورت کے آخرمیں رکوع کیا اتنی دیر رکو ع کیا جتنی دیر سورۃ کی تلاوت کی۔

اور اتنی ہی دیر سجدہ کیا ۔ اور دوسری رکعت میں سورۃ الاعمران پڑھی۔ اسی طرح ہر رکعت میں سورت پڑھتے رہے۔ رسول اکرمﷺ اسی طرح نماز پڑھا کرتے۔ کیا ہم نے کبھی غو ر کیا کہ ہم کس طرح نماز ادا کرتےہیں؟ اہل فقہاء متفقہ طور پر نماز میں آنکھیں بند کر نے کو مکروہ کہتے ہیں۔ کہ یہ یہودیو ں کا عمل ہے۔

اسی طرح طوفتہ الملوک کے مؤلف نے اس کے مکر وہ ہونے کی سراہت کی ہے۔ اور کسانی ؒ کہتے ہیں۔ کہ یہ مکروہ ہے کیونکہ یہ سنت کے متصادم ہے۔ کیونکہ سجدہ کی حالت میں نماز کی جگہ دیکھنا شرعی عمل ہے۔ نیز یہ بھی جسم کا ہر عضو کا عبادت میں حصہ ہے تو آنکھیں بھی عبادت کا حصہ ہیں۔ امام عاضؒ نے اپنے فتوٰی میں ضرورت کے وقت آنکھیں بند کرنے کی اجازت دی ہے۔ اگر اس سے نماز میں خشوع زیادہ ہو تو آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں۔

جبکہ ابن عقیم ؒ نے لکھا ہے کہ اگر آنکھیں کھول کر نماز پڑھنے میں زیادہ خشو ع ہو گاتو آنکھیں کھول کر پڑھنی چاہیے لیکن اگر کسی نقش و نگا ر کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہو تو آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا قطعی طور پر مکر ہ نہیں ہے۔ فقہاء اسلام کی نظر میں دیکھا کہ کیا نماز میں آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں۔

بہتر یہی ہوگا کہ آنکھیں کھول کر نماز پڑھنی چاہیے کیونکہ سجدہ میں نماز کی جگہ دیکھنا ضروری ہے۔ اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں دین کی صیح سمجھ فرمائے۔ ہماری نماز میں خشوع و خضوع فرمائے ۔ جیسے آپﷺ نے زندگی گزاری ہے۔اس کے مطا بق ہی زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.