”ماہ محرم الحرام میں روزہ رکھنے کی فضیلت“

محرم الحرام کا مہینہ قابلِ احترام اور عظمت والا مہینہ ہے، اس میں دس محرم الحرام کے روزے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے

،رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں، اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، اور یومِ عاشورہ کے علاوہ اس پورے مہینے میں بھی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے،

اور آپ ﷺ نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :افضل ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی یومِ عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے (روزہ رکھنے کی) وجہ دریافت کی تو انھوں نے کہا:

یہ ایک اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی، موسیٰ نے بھی اس (دن) کا روزہ رکھا تھا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’موسیٰ کے ساتھ (مناسبت کے اعتبار سے) میں زیادہ حق رکھتا ہوں۔‘‘تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی دیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”رمضان کے بعد افضل روزہ اللہ کے مہینے محرم کا روزہ ہے۔”

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.