”مثانے معدے اور جگر کی گرمی چند منٹ میں غائب۔ دن میں دو دفعہ اس شربت کا استعمال کر یں ۔“

آج میں آپ کو بہت ہی زبر دست شربت کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں آج دوپہر کو سور ہا تھا تو جب سو کر اٹھتے ہیں تو آپ کو پتہ ہے کہ جسم کے اندر کافی پیاس لگتی ہے ڈی ہائیڈریشن ہو جا تی ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ سونے سے پہلے پانی ضرور استعمال کر لیا کر یں کیونکہ سوتے دوران ہمارے جسم نے پانی کو استعمال کر نا ہو تا ہے

تو جب میں سو کر اٹھا تھا تو مجھے پیاس لگی تھی تو میں نے سب سے پہلے فریج کھولی اور دیکھا کہ پانی ہے کہ نہیں میں پانی پینے ہی لگا تھا کہ با ہر سے آواز آئی کہ تمہارے لیے شربت بنا یا ہے پانی نہیں پینا تم یقین کر یں۔

کہ اتنا مزیدار شربت اتنا مزیدار شربت کہ جب میں نے اسے پیا نا سر سے لے کر پاؤں تک میرے جسم میں ٹھنڈ پڑ گئی ہے اخیر تھی اگرآ پ کو گرمی لگتی ہے نا وہ شربت آپ کو ضرور پئیں ۔ کیسے بناتے ہیں۔ اس کے بہت زیادہ فائدے ہیں فائدوں کی طرف ہم بعد میں چلیں گے سب سے پہلے میں آپ کو اس شربت کو بنانے کے لیے جو طریقہ کار استعمال ہو گا وہ بتا دیتا ہوں اس کے لیے ایک گلاس پانی کا لیں اور اس کے بعد ایک یا دو چمچ شکر کے ڈال دیں اور اس کو اچھے سے مکس کر دیں۔

اچھے سے مکس کرنے کے بعد اس میں لیمن نچوڑ لیں لیمن نچوڑنے کے بعد اسپغول کا چھلکا جو ہے اس کو شامل کر لینا ہے تقریباً ایک چمچ کے قریب ۔ اس شربت کو بنانے کا طریقہ بہت ہی زیادہ سادہ ہے کہتے ہیں نا کہ صحت ہے تو سب کچھ ہے۔ تو میں نے جو شربت بنا یا ہے اس کے بے حد فوائد ہیں اگر میں نے خود نہ آزما ئے ہو تے پھر تو میں کہہ سکتا تھا کہ یہ جو شربت ہے یہ نقلی ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے مگر یقین کر یں کہ یہ جو شربت ہے اس کے بے حد فوائد ہیں اس کے استعمال سے جسم میں جو بھی کمزوری ہو گی وہ دورہو جا ئے گی۔

اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کے جو مسئلے مسائل ہوں گے وہ بھی دور ہو جا ئیں گے جیسا کہ پیشاب کے متعلق مسئلے مسائل اور اس کے ساتھ ساتھ اگر مثانے کا مسئلہ چل رہا ہے آپ لوگوں کے ساتھ تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے یہ جو شربت ہے اس شربت کے بے حد فوائد ہیں۔ تو میں یہ چاہ رہا ہوں کہ اس شربت کو لازماً استعمال کیجئے گا تا کہ اس شربت کے جو فوائد ہیں وہ آپ کو حاصل ہو سکیں اور کسی بھی قسم کی جو بیماری ہے وہ لاحق نہ ہو سکے آپکو۔ اللہ ہمیں صحت تندرست و توانا رکھے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *