”یوم عاشورا اثمد سرمہ آنکھوں میں لگائیں“

محرم الحرام کی دس تاریخ یعنی یوم عاشوراء کو اثمد سرمہ لگانے کی ترغیب ایک حدیث کے ذریعہ دی جاتی ہے

کہ حدیث میں ہے: ’’جو شخص یوم عاشورا کو اثمد سرمہ آنکھوں میں لگائے گا اس کی آنکھیں کبھی بھی نہیں دکھیں گی‘‘۔یہ حدیث بعض کتابوں میں ان الفاظ میں ملتی ہے : مَنِ اكْتَحَلَ بالْإِثْمَدِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ لَمْ يَرْمَدْ أَبَدًا (شعب الایمان: ۳۵۱۷)لیکن اس کے بارے میں محدثین نے جو لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے

کہ یہ ’’حدیث رسول ‘‘ نہیں ، بلکہ موضوع روایت ہے، اس لئے اس کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرکے لوگوں میں شیئر کرنے اور اس فائدہ اور فضیلت کو حاصل کرنے کے مقصد سے اس پر عمل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ علامہ ابن جوزی اور علامہ شوکانی علیہما الرحمۃ نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا ہے ۔( الموضوعات : ۲؍۲۰۴، الفوائد المجموعۃ: صفحہ : ۹۸، جمع الجوامع : ۸؍۶۵۸) امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں نے اس گھڑا ہے ۔(نصب الرایۃ : ۲؍۴۵۵)علامہ ابن رجب علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :كل ما روى في فضل الاكتحال والاختضاب والاغتسال فيه موضوع لم يصح.(لطائف المعارف: ۵۴)’’یوم عاشورا کو سرمہ لگانے ، خضاب لگانے اور غسل کرنے کے سلسلہ میں جو روایتیں بھی منقول ہیں وہ سب کی سب موضوع ہیں‘‘اس لئے اس روایت کو حدیث رسول کہہ کر عام کرنے اور اس پرعمل کی ترغیب سے بچنا ضروری ہے، اللہ ہمیں صحیح اعمال کی توفیق دے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.