۔کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا رہا ہے: میری توبہ، مجھے معاف کردے۔ میں اس نافرمانی کی طرف کبھی پلٹنے والا نہیں۔ میں نے دیکھنا چاہا اس بےخودی کے عالم میں آہیں بھر بھر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے۔ کیا دیکھتا ہوں، یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا!!!تب میں نے دل میں کہا: خوش قسمت تھا، جس نے خدا کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے؛ خدا مہربان تھا جس نے وہ سبھی دروازے آخر کھول ڈالے!تو کیسے بھی برے حال میں ہو، کتنے ہی گناہگار ہو… خدا کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا۔ جتنے دروازے کھلے رکھ سکتے ہو انہیں کھلے رکھنے کےلیے شیطان کے مقابلے پر مسلسل زور مارتے رہنا… اور کبھی ہار مت ماننا۔کوئی ایک بھی دروازہ یہاں کھلا مل گیا تو کچھ بعید نہیں وہ سب دوروازے ہی کھل جائیں، جن کے بارے میں تمہیں کبھی آس نہ تھی کہ خدا کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہوگا!!!ترجمہ: کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ رجوع کر لو اپنے پروردگار سے اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو…(الزمر:)

حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ سے ان کی توبہ کا
سبب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا.”میں ایک سپاہی تھا اور شراب کا رسیا تھا. میں نے ایک نفیس باندی خریدی اور وہ میرے دل میں خاص مقام کی مالک بن گئی. اس سے میری ایک بچی پیدا ہوئی. میں اس بچی کو حد سے زیادہ پیار کرتا تھا ـ جب وہ زمین پر گھسٹ کر چلنے لگی تو میرے دل میں اس کی محبت اور بڑھ گئی.

وہ مجھ سے مانوس ہو گئی اور میں اس کے سامنے جب شراب لا کر رکھتا تو وہ آکر کھینچا تانی کر کے میرے کپڑوں پر شراب بہا دیتی جب اس کی عمر دو سال ہو گئی تو وہ مر گئی میرے دل کو اس کے غم نے بیمار کردیا ـپندرہ رمضان کو جمعہ کی رات میں شراب کے نشے میں مدہوش تھا میں نے عشاء کی نماز بھی نہیں پڑھی تھی میں نے خواب میں دیکھا کہ صور پھونکا گیا اور قیامت قائم ہو گئی مردے قبروں سے اٹھائے گئے اور تم مخلوق جمع ہو گئی میں بھی ان میں تھا.

میں نے اپنے پیچھے سے آہٹ سنی مڑ کر دیکھا تو ایک بہت بڑا س ا ن پ ہے کالے رنگ کا آنکھیں نیلی ہیں منہ کھولے میری طرف دوڑ رہا ہے.خوف و دہشت کے مارے میں بھاگا راستے میں ایک صاف ستھرے لباس والے بوڑھے شخص کے پاس سے گزر ہوا میں نے سلام کہا اس نے جواب دیا میں نے کہا بابا مجھے اس اژدہے سے پناہ دو تجھے اللہ پناہ دے گا ـوہ بوڑھا رونے لگا اور کہا میں کمزور اور ضعیف ہوں اور یہ س ا ن پ زبردست ہے

میرے بس میں نہیں آگے چلو اور بھاگو شاید اللہ تیری نجات کی کوئی صورت بنا دے.میں آگے بھاگنے لگا اور بلند جگہ پر چڑھ گیا ادھر سے میں نے جہنم کے طبقات کو جھانک کر دیکھا ان کو ہولناکیاں دیکھیں قریب تھا کہ اژدیے کے خوف سے میں ان میں گر جاتا. مجھے کسی نے آواز دے کر کہا چلو یہاں سے تم یہاں کے رہنے والے نہیں ہو. میں اس کی بات سے مطمئن ہو گیا اور وہاں سے واپس لوٹا تو س ا ن پ میرے پیچھےتھا.میں پھر اسی بابا کے پاس آیا اور کہا بابا میں نےآپ سے درخواست کی کہ اس اژدہے سے میری جان چھڑاؤ آپ نے کچھ نہیں کیا وہ بوڑھا پھر رونے لگا اور کہا میں ناتواں ہوں البتہ تم اس پہاڑ کے پاس جاؤ جہاں مسلمانوں کی امانتیں ہیں

میرے بس میں نہیں آگے چلو اور بھاگو شاید اللہ تیری نجات کی کوئی صورت بنا دے.میں آگے بھاگنے لگا اور بلند جگہ پر چڑھ گیا ادھر سے میں نے جہنم کے طبقات کو جھانک کر دیکھا ان کو ہولناکیاں دیکھیں قریب تھا کہ اژدیے کے خوف سے میں ان میں گر جاتا. مجھے کسی نے آواز دے کر کہا چلو یہاں سے تم یہاں کے رہنے والے نہیں ہو. میں اس کی بات سے مطمئن ہو گیا اور وہاں سے واپس لوٹا تو س ا ن پ میرے پیچھےتھا.میں پھر اسی بابا کے پاس آیا اور کہا بابا میں نےآپ سے درخواست کی کہ اس اژدہے سے میری جان چھڑاؤ آپ نے کچھ نہیں کیا وہ بوڑھا پھر رونے لگا اور کہا میں ناتواں ہوں البتہ تم اس پہاڑ کے پاس جاؤ جہاں مسلمانوں کی امانتیں ہیں

ان کے چہرے چاند کی مانند تھے س ا ن پ بھی میرے نزدیک پہنچ چکا تھا میں حیران رہ گیا ان بچوں میں سے ایک نے چلا کر کہا ابے سب آؤ اس کا دشمن نزدیک آ گیا ہے چنانچہ وہ جوق در جوق کھڑے ہو کر جھانکنے لگے اچانک میری بچی جو مر گئی تھی وہ بھی ان کے ساتھ جھانک رہی ہے جب اس نے مجھے دیکھا تو رونے لگی اور کہا ہائے یہ تو میرا باپ ہے

پھر اس نے نور کے جھرمٹ میی تیر کی تیزی کے ساتھ چھلانگ لگائی اور میرے سامنے آ کھڑی ہوئی اس نے اپنا بایاں ہاتھ میری طرف بڑھا کر میرا دایاں ہاتھ پکڑ لیا اور اپبے دائیں ہاتھ کو اژدہے کی طرف بڑھا دیا تو وہ بھاگ گیا.پھر اس نے مجھے بیٹھایا اور میری گود میں بیٹھ گئی اور اپنے دائیں ہاتھ سے میری داڑھی پکڑ کر کہا.اے ابا جان !کیا مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک جائیں ـ میں رونے لگا اور کہا اے بیٹی تم لوگ بھی قرآن کو جانتے ہو اس نے کہا ہم تو آپ سے بھی زیادہ قرآن کو جانتے ہیں میں نے کہا اژرھے

پھر اس نے نور کے جھرمٹ میی تیر کی تیزی کے ساتھ چھلانگ لگائی اور میرے سامنے آ کھڑی ہوئی اس نے اپنا بایاں ہاتھ میری طرف بڑھا کر میرا دایاں ہاتھ پکڑ لیا اور اپبے دائیں ہاتھ کو اژدہے کی طرف بڑھا دیا تو وہ بھاگ گیا.پھر اس نے مجھے بیٹھایا اور میری گود میں بیٹھ گئی اور اپنے دائیں ہاتھ سے میری داڑھی پکڑ کر کہا.اے ابا جان !کیا مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک جائیں ـ میں رونے لگا اور کہا اے بیٹی تم لوگ بھی قرآن کو جانتے ہو اس نے کہا ہم تو آپ سے بھی زیادہ قرآن کو جانتے ہیں میں نے کہا اژرھے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.