حضرت علی ؓ کی زندگی کو بدل دینے والی دس باتیں!

حکمت مومن کی کھوئی ہوئی چیز ہے ۔ حکمت خواہ منا فق سے ملے لے لو۔ انسان زبان کے پردے میں چھپا ہے۔

ادب بہترین کمال ہے اور خیرات افضل ترین عبادت ہے جو چیز اپنے لیے پسند کر و دوسروں کے لیے بھی پسند کرو۔ بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینہ سے بچو۔ گ ن ا ہ پر ندامت گ ن ا ہ کو مٹا دیتی ہے نیکی پر غرور نیکی کو تباہ کر دیتا ہے۔ سب سے بہترین لقمہ وہ ہوتا ہے جو ا پنی محنت سے حاصل کیا جا ئے جو شخص پاک دامن عورت پر تہمت لگا تا ہے اسے سلام مت کرو۔

ہمیشہ سچ بو لو تا کہ تمہیں قسم کھانے کی ضرورت نہ پڑے۔ م و ت کو ہمیشہ یاد رکھو مگر م و ت کی آرزو کبھی نہ کرو۔!!! ہمیشہ سچ بولو،چاہے سچ بولنے سے تمہاری جان ہی چلی جائے۔ مالِ غنیمت کی امید پر کسی کی جان جوکھوں میں مت ڈالو۔کم بولنا حکمت ہے کم کھانا صحت ،اور کم سونا عبادت ہے۔ ایمان کے بعد نیک بیوی سے زیادہ کوئی نعمت نہیں ۔

لالچ سے زیادہ عقل کو برباد کرنے والی کوئی چیز نہیں شراب بھی نہیں۔جس سے تم کو نفرت ہو اس سے ڈرتے رہو۔سخی خدا کا دوست ہے ،چاہے فاسق ہو،بخیل خدا کا دشمن ہے چاہے زاہد ہو۔کسی شادی شدہ فوجی کو چارمہینے سے زیادہ میدان جنگ میں نہیں روکنا چاہئے۔

ایک رات حضرت عمر فاروق ؓ لوگوں کے حالات کا جائزہ لے رہے تھے اور ان کی خبر گیری میں مصروف تھے۔کہ آپ ؓ کو تھکاوٹ محسوس ہوئی تو کسی گھر کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگالی۔آپ ؓ نے سنا کہ ایک عورت اپنی بیٹی سے کہہ رہی ہے کہ بیٹی جاؤ اٹھو اور دودھ میں پانی ملاؤ !بیٹی نے کہا:اماں کیا آپ کو معلوم نہیں ،کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے اس سے منع کیا ہے ؟

اس کی ماں پھر بولی : جلدی جاؤ دودھ میں پانی ملاؤ ،ابھی ہمیں عمر ؓ تو نہیں دیکھ رہے ہیں ،لڑکی نے جواب دیا:اما! عمر ؓ تو نہیں دیکھ رہے مگر عمر ؓ کا رب تو دیکھ رہا ہے ۔حضرت عمر ؓ کو اس نیک لڑکی کی بات بہت پسند آئی،اپنے غلام کو جو اس وقت ان کے ہمراہ تھا،فرمایا :اس دروازے کی شناخت رکھنا اور یہ جگہ بھی یاد رکھنا :پھر وہ دونوں آگے چل دیئے جب صبح ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے غلام سے فرمایا:جاؤدیکھوں وہ لڑکی کون ہے؟

اور اس نے کس عورت کو جواب دیا:اور کیاان کے ہاں کوئی مرد ہے ؟ غلام معلومات لے کر واپس آیا اور حضرت عمر ؓ کو اس نے بتایا کہ وہ لڑکی کنوار ی غیر شادی شدہ ہے اور وہ اس کی ماں ہے اور ان کے ہاں کوئی مرد نہیں۔حضرت عمر ؓ نے اپنے بچوں کوبلایا:اور ان کو حقیقت حال سے آگا ہ کی اور پھر فرمایا :تم میں سے کون اس لڑکی سے شادی کرنا چاہےگا؟حضرت عبداللہ ؓ نے کہا:میری تو بیوی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.