باپ کی یاد میں ۔۔۔تڑپا دینے والے اشعار

باپ نے بیٹے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ! بتاؤ دنیا کا طاقتور انسان کو ن ہے بیٹے نے

جواب دیا کہ میں ہوں۔ پھر باپ نے کندھوں سے ہاتھ ہٹا کر پوچھا کہ دنیا کا کمزور انسان کون ہے تو بیٹے نے جواب دیا میں ہوں۔ باپ نے پوچھا کہ کیوں ! تو بیٹا بولا کہ جب آپ کا ہاتھ میرے کندھے پر تھاتو میں خود کو دنیا کا طاقت ور ترین انسان سمجھا تھا اور جب آپ نے ہاتھ اُٹھا یا تو میں دنیا کا کمزور انسان بن گیا۔ماں کے بنا پورا گھر بکھر جاتا ہے پر باپ کے بنا پوری دنیا ہی بکھر جاتی ہے۔

ہر عمل کے لئے اللہ تعالیٰ کے یہاں پہنچنے کے لئے درمیان میں حجاب ہوتا ہے مگر باپ کی دعا بیٹے کے لئے اللہ پاک تک پہنچنے کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔باپ ایک ایسی کتاب ہے جس پر بہت سے تجربات تحریر ہوتے ہیں جو زندگی گزارنے میں رہنمائی کرتے ہیں اس لئے اسےا پنے سے کبھی دور مت رکھیں۔

قدر کیجئے ایسے رشتوں کی جو آپ کے سینے پر موجود جیب کے بجائے آپ کے سینے میں دھرکتے دل میں دلچسپی رکھتے ہوں۔میرے ماں باپ نے مجھے سب کچھ سکھایا، سوائے اس کے کہ ان کے بغیر جینا کیسے ہے۔باپ کا ہاتھ اگر سر پر نہ ہو تو پھر پتا چلتا ہے کہ کون اپنا ہے اور کون پرایا ہے اور زمانے کی آنکھ کا بھی تب ہی پتا چلتا ہے۔

جس ہاتھ کو تھام کر تم اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے ہو اس ہاتھ پر جھریاں آجانے کے بعد اسے چھوڑ مت دینا۔ایسے شخص کو کبھی مت گنوانا جس کے دل میں تمہارے لئے محبت ،احترام، عزت ، فکر اور چاہت ہو۔ ماں باپ کے سامنے اونچی آواز میں بولنے والو جان رکھو کہ جب تم اپنی ماں ،باپ کے آگے چلاتے ہو اور ان سے سختی سے بات کرتے ہو اور ان کو جھڑکتے ہو تو اس وقت اوپر آسمان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے تمہیں لعنت کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کانپنے لگتے ہیں اور توبہ استغفار کرتے ہیں۔تمہاری نماز،زکوٰۃ ، روزہ ،حج کس کام کا جب تم سے تمہارے والدین ہی خوش نہ ہوں۔باپ کا ہاتھ کندھوں پر ہوتو انسان دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے

۔والدین کی دعائیں تسبیح کے دانوں کی طرح ہوتی ہیں ، جو اولاد کے حق میں ہر وقت ہر پل تسبیح کے دانوں کی طرح گرتی رہتی ہیں ،اللہ پاک یہ دعا مانگنے والے ہاتھ ہمیشہ سلامت رکھے۔ والدین کبھی غلط نہیں ہوتے اگران سے غلط فیصلے بھی ہوجاتے ہیں تو ان کی نیت صاف ہوتی ہے ، اور انہی کی دعاؤں سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔کبھی ماں باپ کی یاد آئے تو بہن بھائی مل کر بیٹھا کرو ،کسی کے چہرے پر ماں مسکراتی نظر آئے گی

کسی کے لہجے میں باپ۔سب سے برا وقت وہ ہے جب تمہارے غصے کے خوف سے تمہارے ماں باپ اپنی ضروریات اور نصیحت بیان کرنا چھوڑ دیں۔ماں باپ کے ساتھ تمہارا سلوک ایسی کہانی ہے جو لکھتے تم ہو لیکن تمہاری اولاد تمہیں پڑھ کر سناتی ہے۔باپ کی دانٹ ڈپٹ اولاد کے لئے ایسی ہے جس طرح کھیتوں کے لئے پانی ،باپ کی زندگی تجربات کی کھلی کتاب ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.