دو آدمیوں سے ہوشیار رہو؟

انسان غیروں سے ملی عزت اور اپنوں سے ملے غم کو کبھی نہیں بھولتا۔جب انسان کی ضرورت بدل جاتی ہے

تب اس کا آپ سے بات کرنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے ۔اپنے بارے میں نہ کسی پیر سے پوچھو نہ کسی فقیر سے پوچھو بس تھوڑی دیر آنکھیں بند کرو اور اپنے ضمیر سے پوچھو۔رحیم کی رحمت کا طلبگار ہوں جو بڑا کریم ہے جس کا گناہ گار ہو میں ۔دو آدمیوں سے ہوشیار رہو: ایک وہ جو تم میں وہ عیب بتائے جو تم میں نہیں دوسرا وہ جو تم میں وہ خوبی بتائے جو تم میں نہیں۔جملہ بہت چھوٹا ہے پر اس کی طاقت بہت زیادہ ہے اللہ کی طرف آجاؤ اس سے پہلے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف بلا لے ۔عبادت کی کثرت پر غرور نہ کرو کیونکہ زیادہ عبادت کے باوجود ابلیس کا کیا حال ہوا۔ناکامی کا منہ انسان کو اس وقت دیکھنا پڑتا ہے جب ہم کامیابی کے حصول کے لئے اپنے اللہ کے اصول توڑ دیتے ہیں ۔استاد جی فرماتے ہیں:پتر محبت کی پہچان مقدر سے نہیں معیار سے ہوتی ہے محبت تھوڑی ملے پر سچی ملے تو زندگی سنور جاتی ہے۔

معروف معانی میں توبہ گناہوں کی آلودگی سے احکامِ الٰہیہ کی اطاعت و فرمانبردای کی طرف ظاہری اور باطنی طور پر رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :اور جس نے توبہ کر لی اور نیک عمل کیا تو اس نے اللہ کی طرف (وہ) رجوع کیا جو رجوع کا حق تھا توبہ کا ایک معنی نادم و پشیمان ہونا بھی ہے حضرت عبد اﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہما سے مروی حدیث مبارکہ میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :گناہ پر پشیمان ہونا توبہ ہے۔ توبہ کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے سیدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : اتباعِ نفس سے اجتناب کرتے ہوئے اس میں یکسوئی اختیار کر لو پھر اپنا آپ، حتیٰ کہ سب کچھ اﷲ کے سپرد کر دو اور اپنے قلب کے دروازے پر اس طرح پہرہ دو کہ اس میں احکاماتِ الٰہیہ کے علاوہ اور کوئی چیز داخل ہی نہ ہو سکے اور ہر اس چیز کو اپنے قلب میں جاگزیں کر لو جس کا تمہیں اﷲ نے حکم دیا ہے اور ہر اس شے کا داخلہ بند کر دو جس سے تمہیں روکا گیا ہے اور جن خواہشات کو تم نے اپنے قلب سے نکال پھینکا ہے ان کو دوبارہ کبھی داخل نہ ہونے دو۔ حضرت سہل بن عبد اللہ تستری علیہ الرحمۃ نے فرمایا : توبہ کا مطلب ہے قابلِ مذمت افعال کو قابلِ ستائش افعال سے تبدیل کرنا

اور یہ مقصد خلوت اور خاموشی اختیار کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ مذکورہ بالا تعریفات کی روشنی میں توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت میں جو کچھ مذموم ہے اسے چھوڑ کر ہدایت کے راستے پر گامزن ہوتے ہوئے، پچھلے تمام گناہوں پر نادم ہو کر اﷲ سے معافی مانگ لے کہ وہ بقیہ زندگی اﷲ کی مرضی کے مطابق بسر کرے گا اور گناہوں کی زندگی سے کنارہ کش ہو کر اﷲ کی رحمت و مغفرت کی طرف متوجہ ہو جائے گا اس عہد کرنے کا نام توبہ ہے۔ندامتِ قلب کے ساتھ ہمیشہ کے لئے گناہ سے رک جانا توبہ ہے جبکہ ماضی کے گناہوں سے معافی مانگنا استغفار ہے۔ توبہ اصل ہے جبکہ توبہ کی طرف جانے والا راستہ استغفار ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے سورہ ھود میں توبہ سے قبل استغفار کا حکم فرمایا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے : سو تم اس سے معافی مانگو پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ بیشک میرا رب قریب ہے دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.