دس محرم آنے والا ہے، حقیقت میں یہ ہے کیا؟

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے

کہ انسانی تاریخ کے آغاز اور خود آسمان و زمین کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ کے طے کردہ نظام کے مطابق ایک سال میں بارہ مہینے ہی ہوا کرتے تھے اوران بارہ مہینوں میں چار مہینے ایسے ہیں کہ اسلام کی آمد سے قبل عہد جاہلیت کے عرب کفار مکہ بھی ان کی حرمت اور احترام کے قائل تھے۔چناں چہ وہ اپنی جاری جنگوں کو بھی ان مہینوں میں موقوف کردیا کرتے تھے۔ قرآن پاک نے اس کی طرف ’’منھا اربعۃ حرم‘‘کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ان چار مقدس مہینوں کے اندر محرم الحرام کا مہینہ بھی شامل ہے او رحسن اتفاق سے اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہی محرم الحرام کہلاتا ہے۔تاریخ انسانی کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بھی اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ اسلام سے قبل اس مہینے کے اندر بہت سارے اہم واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

تاریخ اسلام کا اہم ترین واقعہ 10محرم الحرام کوسیدنا حضرت حسین ابن علی ؓ کی شہادت کا ہے۔ یہ ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے کہ رہتی دنیا تک اس کی کسک (ٹِیس) ہر مومن کے دل میں ہر اُس موقع پر اُٹھتی رہے گی، جب جب یہ واقعہ اس کے ذہن میں تازہ ہوتا رہے گا۔ تاریخی روایات کے مطابق سیدنا حسین بن علی ؓ 4ھ میں شعبان کی 5تاریخ کو پیدا ہوئے۔ رسول اﷲﷺ نے شہد چٹایا، اُن کے منہ کو اپنی بابرکت زبان سے تَر فرمایا، دعائیں دیں اور حسین نام رکھا۔ آپ نے کم و بیش (روایات کے مختلف ہونے کی وجہ سے ) حیات نبوی کے کئی سال دیکھے۔ یہ اُن کی صحابیت کی ایک مضبوط دلیل اور علامت ہے۔ آپ کا جسم پاک رسول اﷲﷺ کے جسداطہر کے مشابہ تھا۔ آپ اپنے بھائی کے ساتھ بچپن میں نبیﷺ کے سینہ مبارک پر سوار ہوکر کھیلا کرتے تھے اور ان سے محبت کا اظہار فرماتے ہوئے نبیﷺ نے فرمایا : یہ دونوں (حسنؓ و حسینؓ) دنیا میں میرے پھول ہیں۔(طبرانی فی المعجم) نیز رسول اﷲﷺ کا یہ ارشاد مبارک حدیث کی کتابوں میں جگمگاتا ہوا ہمیں ملتا ہے اور حسنؓ و حُسینؓ جوانانِ جنت کے سردار ہیں۔حضرت امیرمعاویہ ؓ کے بعد یزید نے مسند اقتدار سنبھال لیا تھا اور مسلمانوں سے اپنی خلافت کے حق میں خود اور اپنے کارندوں کے ذریعے بیعت لینا شروع کردی تھی سیدنا حسین ؓ سے بھی مطالبہ کیا گیا لیکن چونکہ یزید کی بیعت خلافت نہیں،بلکہ ملوکیت تھی۔ حضرت حسین ؓ نے بیعت سے سختی سے انکار فرمایا۔ تاریخی روایات کے مطابق بیعت نہ کرنے والے صحابہؓ سے یزید کے کارندوں نے بدسلوکی کا مظاہرہ کیا۔ سیدنا حسینؓ یزید کے ظلم سے عوام الناس کو بچانے اوردین کی سربلندی کی غرض سے کربلا کی طرف آئے تھے۔

سیدنا حسین ؓ ان حالات کے اندر کربلا پہنچے، جہاں ان کے قافلے کو روکا گیا اور ان سے یزید کی بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، جسے آپ نے منظور نہیں فرمایا۔ 9محرم الحرام کو آپ کا پانی بھی بند کردیا گیا اور بالآخر اس معرکے میں سیدنا حسین ؓ نے احقاق حق کی خاطر حق وصداقت اور جرأت وشجاعت کی بے مثال تاریخ رقم کرکے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد فرمادی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.