پرسکون رہنا چاہتے ہوتو یہ کام کرو۔۔

خبردار! اگر دل کی سلامتی چاہتے ہو تو اپنے قول وفعل پر غور کرتے رہو۔

اگر تمہیں بھڑ ڈنگ مارے تو اس کو تم فوراً فع کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہو لیکن اگر تجھ کو تیرے تکبر کےڈنگ نے زخمی کیا ہے تو غم زیادہ ہوگا اور درد کم نہ ہوگا۔ جس کاارادہ نصیحت سنے کا نہ ہو اسے چا ہے کیسی ہی نرمی سے سمجھا ؤ وہ اعراض ہی کرے گا۔ انبیاء بہت پیار سے سمجھاتے ہیں

لیکن کفار پھر بھی قبول نہیں کرتے تھے۔ اللہ نے قرآن میں کافروں کے دلوں کوپتھر سے زیادہ سخت قرار دیا ہے ۔ بدکاروں کو بزرگوں کے قصے سناؤ تو ان کو مزا نہیں آتا۔ ہاں زن ا اور عشق و محبت کی باتیں ان کو خو ش کرتی ہیں بھلی باتیں جس کے مزاج کے موافق نہ ہوں یقینا ً اس نے بری باتوں کی عادت ڈال رکھی ہے۔ اگر اس دنیا میں کسی برائی سے مہتم ہوتا ہے ۔

تو وہ ضرور کسی ایسے مظلوم کی بدعا کا نتیجہ ہوتا ہے جس پر اس نے ظلم کیا ہو۔ اگر تو کہے کہ میں نے تو کسی پر تہمت نہیں دھری مجھے سز ا تہمت کی صورت کیوں ملی تو یہ تیری غلطی ہے ۔ تو نے کوئی نہ کوئی دانہ بویا جس کا پھل پایا۔ جب کوئی مزور کسی انسان سے اپنی مزدوری وصول کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے توا للہ کی جانب سے جو مزدوری ملے گی ۔ اس کے لیے کیوں نہ مشقت برداشت کر لی جائے ۔ یہ ایسی مزدوری ہوگی جو قب ر میں تیرے کام آئے گی۔

موت کی مثال آئینہ کی سی ہے ۔ انسان جیسا خود ہے ویسا ہی اس کے لیے آئینہ ہے ۔ اگر خود حسین ہے تو آئینہ بھی اس کے لیے حسین ہے ۔ اگر خود کالا اور بھدا ہے تو آئینہ بھی کالا اوربھدا ہی ہوگا۔ جب پیار ، محبت کی طاقت ، طاقت کی محبت سے زیادہ ہو، دنیا کوامن کا پتہ چل جا ئے گا۔ ہربیماری میں کوئی بھید ہوتا ہے ۔ جسم کی بیماری کسی بڑی مصیبت کا صدقہ بن جاتا ہے اور اس کو ٹال دیتا ہے۔ پرسکون رہنا چاہتے ہو تو یہ کام کرو۔ تم کم اور زیادہ کی فکرچھوڑ دو ہمیشہ پرسکون رہو گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.