ایک بادشاہ بیت اللہ کی زیارت کے لئے جارہا تھا اس کے پیچھے زید نامی شخص چل پڑا۔

بصرہ کا ایک سردار ہمیشہ اداس اور غمگین رہتا تھا کسی نے اس سے دریافت کیا کہ آخر اس کی پریشانی کا سبب کیا ھے

؟اس پر سردار نے جواب دیا کہ بات کہنے کی نہیں پر کہی جاتی ھے کہ مجھ سے ایک ولی اللّه کی خدمت میں کچھ بے ادبی ھو گئی تھی اس لئیے ڈرتا ھوں کہ قیامت کو اس کے مواخزے میں گرفتار نہ ھو جاؤں واقعہ یہ پیش آیا کہ میں ایک مرتبہ بیت اللّه کی زیارت کو چلا اور سب دوست و آشنا عزیزواقارب رخصت کرنے آئے حسبِ دستور کچھ دور چل کر میں نے سب کو لوٹا دیا مگر ایک شخص زید جو میرے خواص میں تھا واپس نہ ھوا اور اس نے میرا پیچھا نہ چھوڑا مجبور ھو کر میں نے اسے جھڑک دیا کہ بیت اللّه جانا بھی کوئی آسان سمجھا ھے جو پیادہ پا چلنے کو تیار ھو گیا میرے ساتھ نہ آ اور جس راہ سے تیرا جی چاھے چلا جا یہ سن کر وہ کہنے لگا:اے آقا کیا خدا اس پر قادر نہیں کہ تم کو زادِراہ جلد پہنچا دے اور مجھ کو بے یارومددگار بلا توشہ چھوڑ دے

،یہ کہہ کر اس نے اپنی راہ لی اور میں اپنے راستے چلتا بنا راستہ بھر کہیں وہ مجھ کو نظر نہ آیا واللّه اعلم کہاں پوشیدہ ھو گیا۔جب خدا کے فضل سے مناسک حج سے فارغ ھو کے میں مدینہ طیّبہ کو چلا تو کیا دیکھتا ھوں کہ زید آ گیا اور السلام و علیکم کہہ کر میرے پاس بیٹھ گیا میں نے اس سے حیرت سے پوچھا کہ حج کر آیا؟ اس نے کہا:ھاں،پھر میں نے ظریفتاً کہا:حج کی سند بھی ملی؟تو کہنے لگا کیسی سند؟وہ کس کام آتی ھے؟میں نے کہاحج کرنے والوں کو بیت اللّه میں غیب سے ایک چٹھی ملتی ھے جس میں لکھا ہوتا ھے کہ فلاں ابن فحج کو آیا تھا اور اس کا حج قبول ھو گیا پھر اس سند کے ذریعہ قبر اور حشر کے عذاب سے نجات ھوتی ھے یہ سن کر زید روتا ھوا بیت اللّه کو واپس چلا گیا اور میں حضور اقدس صلّی اللّه علیہ وآلہ وسلّم کے روضے کی کی زیارت سے فارغ ھو کر لوٹا تو کیا دیکھتا ھوں کہ زید پھر آ گیا اور السلام و علیکم کے بعد میرے سامنے ایک چٹھی رکھ دی جو ایک نہایت قیمتی ریشمی کپڑے میں سبز خط سے زید کے عذابِ قبر اور حشر سے نجات کے لئیے لکھی تھی یہ دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے پھر ذرا سکون ہونے پر میں نے معلوم کیا کہ اے زید!بتا تو اس کی حقیقت کیا ھے

؟آخر یہ دولت بےمثال تجھے کس طرح میسر آئی؟تب اس نے کہا کہ سنو بھائی!جب میں بیت اللّه پہنچا تو کعبتہ اللّه حاجیوں سے بلکل خالی تھا اس وقت میں نے گڑگڑا کر زاروقطار رونا اور چلانا شروع کیا کہ اے مالکِ دوجہاں!کیا گنہگاروں کا حج بھی قابلِ قبول نہیں جو مجھ کو حج کی سند نہیں ملی؟کیا غریبوں کا کعبہ اور اور امیروں کا کعبہ اور ھے جو وہاں جا کر سند لاؤں؟مجھ کو قسم ھے تیرے عزت و جلال کی جب تک چٹھی نہ پاؤں گا کعبہ سے باہر نہ جاؤں گا اور روتے روتے یہیں مر جاؤں گا اچانک غیب سے آواز آئی کہ اے زید!نجات کی چٹھی لے اور جا اپنی راہ لے پھر یہ چٹھی میرے ہاتھ میں آ گئی جس کو لے کر میں آ گیا یہ سن کر میری انتہا نہ رہی کہ اللّه! اللّه! اس شخص کا یہ عالی مرتبہ ھے جس سے میں آج تک واقف نہ تھا پھر عزت و اکرام کے ساتھ میں اس کو اپنے ہمراہ بصرہ لے آیا اور وہ چٹھی نہایت عزت و تعظیم کے ساتھ معطرومعنبر کر کے صندوق میں بند کر دی جب کبھی جی چاہتا تو کمال ادب و احترام کے ساتھ نکال کر اس کی زیارت کر لیتا تھا چومتا اور آنکھوں سے لگاتا تھا اور پھر محفوظ کر دیتا اتفاقاً میں کہیں سفر میں تھا کہ میرے پیچھے زید کا انتقال ھو گیا جب میں واپس آیا تو اس خبر سے میرے رنج و قلق کی انتہا نہ رہی

کہ افسوس!میں ایسے ولی کی تجہیزوتکفین میں بھی شریک نہ ھو سکا پھر اچانک مجھ کو وہ چٹھی یاد آئی جو میرے بکس میں محفوظ تھی اب تو میں اور بھی بے تاب ھو گیا اور اپنے اوپر افسوس کرنے لگا کہ سفر کو جاتے وقت میں نے وہ چٹھی زید کو کیوں نہ دی پھر اپنا مہر شدہ صندوق منگا کر کر دیکھا جو اسی طرح بامہر بند تھا جب میں نےاسے کھولا تو اس میں چٹھی نہ پائی اب تو میرے غم والم کا کچھ ٹھکانہ نہ رہا اور ایک حشر کا عالم برپا ھو گیا میں زاروقطار رونے لگا اور روتے روتے سو گیا کیا دیکھتا ھوں کہ طرح طرح کی سجی ھوئی جنت میں زید سر پر ایک تاج رکھے ہوۓ زرق برق لباس میں تخت جواہر پر جلوہ افروز ھے اور اس کے چاروں طرف حوروں کے جمگھٹےھیں میں نے قریب جا کے سلام کیا تو اس نے کہا:اے آقا اس قدر پریشان کیوں ھو؟میں نے کہا مجھے یاد نہیں وہ چٹھی جو تو نے مجھے دے دی تھی،کہنے لگا:وہ تو موجود ھے اور اسکی بدولت یہ دولت و حشمت مجھ کو حاصل ھوئی آپ کچھ تردد نہ کیجئے میں اپنی من مانی مراد کو پہنچ گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.