سرسے پاؤں تک گناہوں میں ڈوبا ہوا شخص بھی یہ پڑھے تو اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے

بعض چیزیں چونکہ شریعت میں ہیں تو اس میں چونکہ ایسے مراحل آتے ہیں کہ ہر شخص

اس بات کا متحمل نہیں ہوتا تو ہر ایک کے سامنے بیان کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن صحابیات اور صحابہ جب بھی کوئی ایسی بات کرتے جس کے اندر حیا کا پہلو ہوتا تو یہ آیت پڑھا کرتے ان اللہ لا یستحیی من الحق اللہ ذوالجلال حق کو بیان کر نے میں حیا نہیں کرتی ،

انسان ہے ایک شخص سے یہ غلطی ہوئی کہ اس کے پاس عورت آئی اور اس نے اسے چمکارا نتیجتا وہ پریشان ہوا اور اللہ کے رسول ﷺ کے پاس گیا اور اس نے اللہ کے رسول کے ساتھ ہی نمازیں پڑھیں اس قدر پریشانی کہ کیا بنے گا قیامت کے دن تواللہ کے رسول نے فرمایا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے کہ نہیں کہا نماز تو پڑھی ہے فرمایا نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں

یہاں تہامہ پہاڑ کی بات آئی ہے اللہ کے رسول نے فرمایا کچھ لوگ تہامہ سفید پہاڑ جو تہامہ کے ہیں اتنی نیکیاں لے کر آئیں گے اللہ انہیں دھول بنا کر اُڑا دیں گے اللہ کے رسول کیوں؟

فرمایا اس لئے وہ نمازیں بھی پڑھتے ہوں گے لیکن جب انہیں برائی کا موقع ملتا ہے جب انہیں موقع ملتا ہے تو اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے میں کبھی بھی نہیں شرماتے اور یہ اس وقت ہوگا اگر اس نے توبہ نہیں کی اگر توبہ کرلے تووہ تو شرک بھی معاف ہوجاتا ہےاعمال

مگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.