سات باتیں جو انسان کی پہچان کروا دیں

سچا انسان تھوڑا جذباتی ضرور ہوتا ہے لیکن منافق بالکل بھی نہیں ۔اپنی بے عزتی کا جواب اتنی عزت سے دیں

کہ سامنے والا شرمندہ ہو جائے۔کچھ لوگوں کی قدرو قیمت تب معلوم ہوتی ہے جب وہ ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں۔جب کسی کو عزت دیں تو ساتھ دو گولیاں ہاضمے کی بھی دے دیں کیونکہ زیادہ عزت ہر کوئی ہضم نہیں کر پاتا۔انسان پر جب اچھا وقت آتا ہے تو بھولنے والی چیزوں میں سب سے پہلے اپنی اوقات بھولتا ہے۔ذمہ داریوں کے ہجوم میں جو چیز سب سے پہلے گم ہوتی ہے وہ بس اپنی شخصیت ہوتی ہے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نیکی اس وقت کرتے ہیں جب ہم برائی کے قابل نہیں رہتے ۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی نے (کہیں سے) آکر اپنے اونٹ کو بٹھایا پھر اُسے ٹانگ سے باندھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے چلا گیا، جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے

تو اُس نے اپنے اونٹ کے پاس آکر اس کی رسی کو کھولا۔ پھر اُس پر سوار ہو کر دعا کرنے لگا: یا اللہ! تو مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ سن کر صحابہ سے) فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اُس کا اونٹ؟ کیا تم نے سنا نہیں کہ اُس نے کیا کہا؟ اُنہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (یا رسول اللہ! ہم نے سنا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اُس اعرابی سے) فرمایا: تُو نے (اللہ تعالیٰ کی رحمت کو) تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتوں کو تخلیق کیا جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک رحمت (زمین پر) اُتاری، مخلوقات میں سے جن و انس اور بہائم (درندے) اُسی کی وجہ سے باہم شفقت و مہربانی کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتیں اُس کے پاس ہیں۔ اب تم کیا کہتے ہو کہ یہ زیادہ گمراہ ہے

(جسے رحمتِ الٰہی کی وسعت کا علم نہیں) یا اُس کا اونٹ (جو اس کے ماتحت ہے)۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتوں کو پیدا کیا، اُن میں سے ایک رحمت کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، اُسی کی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر شفقت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں قیامت کے دن تک کے لئے مؤخر کر رکھی ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتوں کو پیدا کیا جن میں سے ایک رحمت کو اُس نے ساری مخلوق کے درمیان تقسیم کر دیا اور ننانوے کو قیامت کے دن تک کے لئے محفوظ کر لیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.