سید ابو صالحؒ کی نظر دریا میں بہتے سیب پر پڑی تین دن کا فاقہ تھا آپ نے وہ سیب کھالیا

سید ابو صالحؒ کو جنگ سے بہت انس تھا آپؒ کا لقب بھی جنگی دوست ہوگیا تھا۔آپؒ زمانہ کے

بلند مرتبہ متقی وپرہیز گار لوگوں میں سے تھے کہتے ہیں کہ ریاضات ومجاہدات کے دوران میں ایک دفعہ آپ ؒ کا تیسرا فاقہ تھا۔ آپؒ دریا کے کنارہ پر بیٹھے تھے کہ دریا میں ایک سیب بہتا ہوا دکھائی دیا ۔جسے آپ ؒ نے پکڑ کر تناول فرما لیا بعد میں آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ سیب کس کا ہے

اور میرے لئے اس کا کھالینا کیونکہ حلال ہوسکتا ہے یہ خیال پیدا ہوتے ہیں آپ ؒ اپنا قصور معاف کرانے کیلئے مالک سیب کی جستجو میں دریا کے کنارے چلے اس دریا کے کنارے کئی روز کے متواتر سفر کے بعد آپ ؒ کو آب رواں کے قریب ایک نہایت عظیم الشان عمارت ملی جس میں ایک بہت وسیع باغ تھا ۔ اس باغ میں سیب کا ایک بہت بڑا درخت بھی نظر آیا جس کی شاخیں میوے سے لدی ہوئی سطح آب پر پھیلی ہوئی تھی ان شاخوں سے پختہ سیب ٹوٹ کر پانی میں گر رہے ہیں آپ ؒ کو یقین ہوگیا کہ جو سیب آپؒ نے تناو ل فرمایا تھا وہ اسی درخت کا ہے چنانچہ آپ نے مالک باغ کے متعلق دریافت کیا تحقیقات کے بعد معلوم ہوا اس باغ ومحل کے مالک حضرت سید عبداللہ صومعی ؒ ہیں ۔ آپ ؒ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرہ عرض کرکے معافی کی درخواست کی حضرت عبداللہ جان گئے

کہ یہ شخص بندگان خدا میں سے ہے فرمایا بارہ برس ہماری خدمت رہو تب وہ معاف ہوگا آپؒ نے بسر وچشم منظور فرمایا کیا بارہ سال کی مدت ختم ہوئی تو حضرت عبداللہ صومعی ؒ نے فرمایا ایک خدمت اور ہے اسے بھی انجا م دو تو تب سیب معاف کروں گا وہ یہ کہ میری ایک لڑکی ہے جس میں چا ر عیب ہیں آنکھوں سے اندھی ہے کانوں سے بہری ہے ہاتھوں سے لنجی ہے اور پاؤں سے لنگڑی ہے اس عاجزہ کو نکاح میں قبول کروں اور بعد نکاح دوسال اور ہماری خدمت میں رہو تاکہ اس نکاح کے نتیجہ میں ایک فرزند کی صورت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو اس کے بعد جہاں جی چاہے چلے جانا آپ نے اسے بھی قبول فرمایا جب نکاح کے بعد صاحبزادی کا سامنا ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے تمام اعضاء صحیح وسالم ہیں اور اس کے حسن وجمال کے آگے چودھویں رات کا چاند بھی شرماتا ہے

آپ نے اس کو خلا ف حلیہ پاکر تمام شب اس سے کنارہ کشی اختیار کی ۔ دوسرے دن صبح کو حضرت عبداللہ صومعی ؒ نے فراست سے سارا حال دریافت فرما کر ابو صالحؒ کو کہا ہاں میں نے اپنی لڑکی کو جو صفات تم سے بیان کی تھی وہ سب صحیح ہے نامحرم کیلئے اس کی آنکھیں اندھی ہیں غیر حق بات سننے کیلئے اس کے کان بہرے ہیں نامحرم کو نہیں چھوا تو اس کے ہاتھ لنجے اور تمہارے حکمم کیخلاف قدم اٹھانے کیلئے اس کےپاؤں لنگڑے ہیں ان کی باتیں سن کر حضرت ابی صالحؒ کے قلب میں اپنی بیوی کی بڑی قدرومنزلت ہوئی اور دونوں بہت خوشی رہنے لگے حضرت ابو صالح ؒ ابتداء سے لیکر اوسط عمر تک بلکل لاولاد رہے آخر عمر میں آکر اولاد پیدا ہوئی ۔اللہ رب العزت نے انہیں بیٹا عطاء فرمایا ور انہوں نے انکا نام عبدالقادر رکھا اور جو بعد میں غوث الاعظم کے لقب سے مشہور ہوئے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.