ایک ولی اللہ کا واقعہ

۱۹۵۴ء میں میں ایم بی بی ایس کا طالب علم تھا۔ ملتان کے ایک باغ

میں سید عطا الہ شاہ بخاری رحمه اللہ کی رات کو تقر تھی۔ میرے والد صاحب مجھے ساتھ لے گئے، نے عشاء کی نماز کے بعد تقریر شروع کی اور جب فجر کی اذانیں ختم ہوئی تو ختم کی۔رات کے تقریبا ایک بجے اکثر لوگ سونے لگے تو نے سورہ یس کی تلاوت شروع کی اللہ نے شیخ کی زبان میں اتنا اثر رکھا تھا کہ سارا مجمع جاگ اٹھا، اللہ کے کلام میں اتنا اثر تھا کہ لوگ رورہے تھے۔

اسی اثنا میں سارے مجمع کے اوپر ایک سفید رنگ کا بادل جو درختوں کی بلندی پر تھا، چھا گیا۔ اس بادل میں سفید سفید روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ میں نے والد صاحب سے اس بادل کے متعلق پوچھا تو وہ بھی یہ نظارہ دیکھ کر حیران ہو گئے۔ چناں چہ سارے

مجمعع نے یہ نظارہ دیکھا۔ قریبا ایک گھنٹہ تک یہ بادل لوگوں پر چھایا رہا۔ جب شیح نے یس ختم کی تو یہ بادل یکدم غائب ہو گیا ، اس کے بعد شیخ رحمہ اللہ نے بتایا کہ اللہ کی دوسری مخلوق اللہ کا کلام سنے آئی تھی یعنی فرشتے۔ .

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.