جتنا مرضی سینے کا انفیکشن ہو یا پرانی سے پرانی کھانسی ! آسان سا گھریلو ٹوٹکہ کر لیں سارا مسئلہ حل ہو جائے گا

سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی مختلف قسم کے انفیکشن انسانی جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ موجودہ دنوں میں جہاں لوگ کورونا وائرس سے لڑ رہے ہیں وہیں موسمی بخار، نزلہ، کھانسی جیسے وائرل بھی ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے ہیں۔ اس صورتحال میں لوگ فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، معمولی کھانسی تو عام بات ہے لیکن اگر یہ ہی کھانسی حد سے بڑھ جائے اور گلے میں درد بھی ہو تو پھر یہ ضرور خطرے کی نشاندہی ہے۔ آج ہم آپ کو اس کھانسی سے نجات حاصل کرنے

کے 3 انتہائی آسان اور آزمودہ ٹوٹکے بتائیں گے، جنہیں آپ گھر میں استعمال کر کے صحت مند ہو سکتے ہیں۔ 1) شہد سے کھانسی کا علاج شہد سے کھانسی کا علاج بہت ہی عام ہے۔ شہد میں قدرتی طور پر antimicrobial خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو کہ تمام بیکٹیریا اور وائرس کو مارنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ ساتھ ہی اس میں بے شمار اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بہت سے ماہرینِ طب کا یہ ماننا ہے کہ شہد ان تمام ادویات سے زیادہ بہتر ہے

جو کھانسی اور نزلے میں ڈاکٹر کسی مریض کو دیتا ہے۔ کھانسی، گلے میں درد یا نزلے کے لئے 1 کپ پانی ابال لیں اور اس میں 2 چمچ شہد شامل کریں اور 3 قطرے لیمو ڈالیں۔ دن میں 2 بار اسے پئیں، فرق آپ کو خود محسوس ہوگا۔ 2) نمک کے پانی کے غرارے گلے میں درد اور کھانسی میں فائدہ حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے 1 کپ پانی نیم گرم کرلیں، اور اس میں 2 چمچ نمک شامل کریں۔ اس پانی سے اچھی طرح غرارے کریں۔ بہترین نتائج کے لئے یہ عمل دن میں 3 سے 4 بار ضرور کریں۔ یاد رکھیں، یہ ٹوٹکا چھوٹے بچوں کے لئے نہیں ہے، کیونکہ وہ ٹھیک سے غرارے نہیں کر سکتے۔ 3) ادرک سے کھانسی کا علاج ادرک میں بھی

اس قسم کے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو بیکٹیریا سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ادرک مدافعتی نظام بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ ایک کپ پانی ابالیں اور اس میں چھوٹا ٹکڑا ادرک کا ڈالیں، 1 سے ڈیڑھ چمچ شہد شامل کریں اور معمولی سی کالی مرچ پاؤڈر شامل کریں۔ یہ کھانسی میں استعمال ہونے والا بہترین ٹوٹکا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ اسے دن میں ایک بار ہی استعمال کریں کیونکہ ادرک کی تاثیر گرم ہونے کی وجہ سے یہ معدے اور سینے کی جلن کی وجہ بن سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *