قبض کی اصل وجہ کو جانیں فائبر جسم میں کیا کرتا ہے؟

قبض کی بیماری کا سامنا اکثر افراد کو ہوتا ہے اور انہیں اپنی زندگی اس کی وجہ سے بہت مشکل محسوس ہونے لگتی ہے

۔قبض ذیابیطس جیسے مرض کی بھی ایک بڑی علامت ہوسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق ذیابیطس سے ہٹ کر کچھ اقسام کے کینسر لاحق ہونے کی صورت میں بھی قبض کی شکایت اکثر رہنے لگتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو اکثر قبض کی شکایت رہتی ہے تو اسے عام سمجھ کر نظر انداز مت کریں۔تاہم قبض کا علاج تو آپ کے اپنے کچن میں بھی موجود ہے۔جی ہاں اس بیماری سے جلد ریلیف کے لیے ان قدرتی طریقہ علاج کو آزما کر دیکھیں۔

زیتون کا تیل:زیتون کا خالص تیل قبض سے نجات کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے، اس کا استعمال نظام ہضم کو حرکت میں لاتا ہے جس کے نتیجے میں آنتوں کی صفائی ہوتی ہے اور اس کا استعمال معمول بنالینے سے قبض کا عارضہ شکار نہیں بناتا۔ آپ کو بس ایک چائے کا چمچ زیون کا تیل صبح نہار منہ استعمال کرنا ہوگا کیونکہ یہ خالی پیٹ ہی بہترین کام کرتا ہے۔بیکنگ سوڈا:کھانے کا سوڈا انتہائی کارآمد چیز ہے اور یہ قبض کے لیے بھی بہترین ثابت ہوتا ہے، اس کو استعمال کرنے کے لیے ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا اور چوتھائی کپ گرم پانی کی ضرورت ہوگی،

سوڈے کو پانی میں مکس کرلٰں اور اس مکسچر کو پی لیں ، امید ہے کہ قبض کی شکایت ختم ہوجائے گی۔پانی:روزانہ کم از کم آٹھ گلاس پانی پینا نہ صرف عام صحت کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ آنتوں کو بھی بہتر بنانے والی عادت ہے جس کے نتیجے میں قبض کا خطرہ نہیں ہوتا۔لیموں پانی:لیموں پانی میں شامل سیٹرک ایسڈ غذائی نظام میں تحریک کا کام کرتا ہے اور جسم میں موجود زہریلے مواد کو باہر نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ ہر صبح ایک گلاس لیموں پانی یا لیموں کو چائے میں شامل کرکے استعمال کریں جس سے نظام ہاضمہ میں بہتری آئے گی۔اب یہ بھی جان لیں کہ قبض رہنے کی عام وجوہات کیا ہوتی ہیںغذا میں تبدیلی:اگر آپ سبزیاں خاص طور پر سبز سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں یا جسمانی وزن میں کمی لانے کی کوشش کررہے ہیں تو غذا میں کوئی بھی تبدیلی قبض کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی طرح مخصوص غذائیں جیسے زیادہ چربی یا فاسٹ فوڈ یا چائے یا کافی کی شکل میں کیفین کا بہت زیادہ استعمال بھی اس کا باعث بنتا ہے۔پانی کا کم استعمال:اگر تو آپ زیادہ پانی پینے کے عادی نہیں تو یقیناً قبض کا اکثر شکار رہتے ہوں گے یا ایسے افراد میں بہت زیادہ امکان ہوتا ہے، اسی طرح کولڈ ڈرنکس کا استعمال بھی قبض کا باعث بنتا ہے خاص طور پر جو لوگ ان مشروبات کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہو۔

ورزش سے دوری یا سست طرز زندگی:ہر وقت بیٹھے رہنا یا جسمانی سرگرمیوں سے دور بھاگنا میٹابولزم کو سست کردیتا ہے جس کے نتیجے میں نظام ہاضمہ متاثر ہوتا ہے اور قبض کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ادویات:مخصوص درد کش گولیاں یا ادویات ہمارے نظام ہاضمہ کو متاثر کرتی ہیں اور قبض کا باعث بن جاتی ہے۔ وٹامنز اور آئرن سپلیمنٹس بھی اس مسئلے کا باعث بن سکتے ہیں اور اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔نیوزی لینڈ کی اوٹاگو یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ڈنڈی کے محققین یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی خوراک میں کم از کم روزانہ 25 گرام فائبر شامل ہونا چاہیے۔ان کے نزدیک صحت بہتر کرنے کے لیے یہ مقدار ’مناسب‘ ہے جبکہ 30 گرام سے تجاوز کرنے کے اپنے فوائد ہیں۔بس اتنا ہی فائدہ ہے؟ایک کیلے کا کل وزن 120 گرام ہوتا ہے مگر یہ خالص فائبر نہیں ہوتا۔ اس میں سے قدرتی چینی اور پانی سمیت سب نکال دیا جائے تو تین گرام فائبر رہ جاتا ہے۔دنیا کے بیشتر لوگ روزانہ 20 گرام سے کم فائبر کھاتے ہیں۔ اوسطاً ہر روز خواتین 17 گرام جبکہ مرد 21 گرام فائبر کھاتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *